تحریر: میثم عباس میمن
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
ائمۂ معصومینؑ کی حیاتِ طیبہ ہر اعتبار سے ہمارے لیے نمونۂ عمل ہے۔ ان کی سیرت صرف عبادات، اخلاق اور روحانیت تک محدود نہیں، بلکہ ان کی زندگی کا ہر پہلو(علمی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی)امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہی اہم پہلوؤں میں سے ایک، ائمۂ معصومینؑ کی سیاسی جدوجہد ہے، جس پر رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے نہایت گہرائی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔
بدقسمتی سے ائمۂ اہلِ بیتؑ کی زندگی کا یہ اہم ترین پہلو عوامی توجہ سے اوجھل رہا۔ صدیوں تک ان کی مظلومیت، مصائب اور فضائل پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں، مجالس برپا ہوئیں اور ان کے غم کو زندہ رکھا گیا، جو یقیناً اپنی جگہ اہم ہے؛ لیکن ان کی مسلسل سیاسی جدوجہد، اسلامی حکومت کے قیام کی کوششوں اور امت کی فکری و سیاسی رہنمائی کو وہ توجہ نہ مل سکی جس کی وہ مستحق تھیں۔ اسی خلا کو محسوس کرتے ہوئے رہبرِ معظم نے اس موضوع پر خصوصی تحقیق کی اور اسے امت کے سامنے پیش کیا۔
ائمہؑ کی زندگی؛ ایک مسلسل تحریک
رہبرِ معظم فرماتے ہیں کہ جب ہم ائمۂ معصومینؑ کی زندگی کو اپنے لیے اسوۂ حسنہ قرار دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی پوری زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے۔ اگر ہم ان کی سیاسی جدوجہد کو نظر انداز کر دیں تو پھر ہم ان کی زندگی کا صرف ایک محدود حصہ ہی اپناتے ہیں، جبکہ اسوۂ حسنہ کی جامعیت باقی نہیں رہتی۔
رہبرِ معظم بیان کرتے ہیں کہ 1971ء کے سخت اور انقلابی حالات میں انہیں پہلی مرتبہ اس حقیقت کی طرف توجہ ہوئی کہ ائمۂ معصومینؑ کی زندگی کے مختلف ادوار، بظاہر جداگانہ دکھائی دینے کے باوجود، درحقیقت ایک ہی مسلسل تحریک کے مختلف مراحل ہیں۔ یہ تحریک سن 11 ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد شروع ہوئی اور 260 ہجری میں غیبتِ صغریٰ کے آغاز تک جاری رہی۔ گویا یہ پورا ڈھائی سو سالہ دور ایک ہی عظیم الٰہی تحریک کی مسلسل کڑیاں ہیں۔
اگرچہ ہر امامؑ کے زمانے کے حالات مختلف تھے، اس لیے ان کے طریقۂ کار میں بھی فرق نظر آتا ہے، لیکن مقصد سب کا ایک ہی تھا۔ کہیں صلح حکمت تھی، کہیں قیام حکمت تھا، کہیں خاموش علمی جدوجہد اور کہیں کھلا سیاسی اقدام۔ امام حسنؑ کی صلح بھی اسی مقصد کا حصہ تھی اور امام حسینؑ کا قیام بھی۔ اختلاف صرف حکمتِ عملی میں تھا، ہدف میں نہیں۔
سیاسی جدوجہد کا حقیقی مفہوم
رہبرِ معظم کے مطابق ائمۂ معصومینؑ کی سیاسی جدوجہد کا مفہوم صرف علمی سرگرمیاں، فقہ و کلام کی تدریس یا مخالفین کے ساتھ مناظرے نہیں تھے، اگرچہ یہ سب بھی اسی جدوجہد کا حصہ تھے۔
اسی طرح ائمہؑ کی تحریک کو صرف اصلاحی تحریک یا انفرادی قیام بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاریخ میں توابین، حضرت زیدؑ اور دیگر شخصیات کی تحریکیں بھی سامنے آئیں، مگر ائمہؑ نے ہر تحریک کی نہ مکمل تائید کی اور نہ مکمل مخالفت؛ بلکہ ہر موقع پر اسلامی مصلحت اور الٰہی حکمت کے مطابق اپنا موقف اختیار کیا۔ بعض تحریکوں کی اخلاقی حمایت کی، بعض کے اہلِ خانہ کی کفالت کی اور بعض مواقع پر خاموشی اختیار کی۔
لہٰذا ائمہؑ کی سیاسی جدوجہد سے مراد ایک منظم، مسلسل اور بامقصد تحریک ہے، جس کا محور اسلامی نظام اور الٰہی حکومت کا قیام تھا۔
ائمہؑ کی جدوجہد کا بنیادی ہدف
رہبرِ معظم کی نگاہ میں ائمۂ معصومینؑ کی تمام سرگرمیوں کا اصل مقصد حکومتِ الٰہیہ کا قیام تھا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے اپنی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں مدینہ میں اسلامی ریاست قائم کی۔ آپؐ کے بعد ائمۂ معصومینؑ نے بھی اسی مشن کو مختلف حالات کے مطابق آگے بڑھایا۔ بعض ادوار میں اسلامی حکومت کے قیام کے امکانات قریب تھے، جیسے امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ کے زمانے میں، جبکہ بعض ادوار میں یہ ہدف مستقبلِ بعید کے لیے محفوظ کیا گیا، جیسا کہ امام علی رضاؑ کے بعد کے حالات سے ظاہر ہوتا ہے۔
ائمہؑ کی عبادت، عرفان، تعلیم، فقہ، حدیث، مناظرے، شیعوں کی تربیت، مخالفین سے مکالمہ، اور مختلف سیاسی و سماجی اقدامات—سب اسی عظیم مقصد کا حصہ تھے کہ اسلامی معاشرہ دوبارہ حقیقی الٰہی قیادت کے زیرِ سایہ قائم ہو۔
نتیجہ
ائمۂ معصومینؑ نے اپنی زندگی میں بے شمار مشکلات کا سامنا کیا۔ ظالم حکمرانوں کا ظلم، مسلسل نگرانی، سیاسی دباؤ، اپنے ماننے والوں کی کمزوریاں، داخلی فتنوں اور بیرونی سازشوں کے باوجود انہوں نے اپنی جدوجہد ترک نہیں کی۔
رہبرِ معظم کی تعبیر کے مطابق ائمۂ معصومینؑ کی پوری زندگی ایک "ڈھائی سو سالہ انسان" کی زندگی ہے؛ ایک ایسا انسان جس کا مقصد ایک، راستہ ایک اور ہدف ایک ہے، اگرچہ حالات کے مطابق اس کی حکمتِ عملی تبدیل ہوتی رہی۔
آج کے نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ائمۂ اہلِ بیتؑ کی سیرت کو صرف مصائب اور فضائل کے زاویے سے نہ دیکھیں، بلکہ ان کی سیاسی بصیرت، اجتماعی ذمہ داری، قیادت، حکمت، استقامت اور اسلامی حکومت کے قیام کی مسلسل جدوجہد کو بھی سمجھیں۔ اس حوالے سے رہبرِ معظم کی کتاب "ڈھائی سو سالہ انسان" نہایت اہم علمی سرمایہ ہے، جس کا مطالعہ ائمہؑ کی حقیقی سیاسی سیرت کو سمجھنے میں غیر معمولی مدد فراہم کرتا ہے۔









آپ کا تبصرہ